جو ہوگا قانون کے مطابق ہوگا۔۔۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں
اور اگر اس مرکز کا کوئی حصہ تجاوزات کے حد میں آتا ہے۔ تو گورنر صاحب اور اسکی ٹیم اس کی لائیو ویڈیوز الیکٹرنک میڈیا پر چلائیں تاکہ پاکستان کے عوام کو ان نام نہاد مولویوں کا اصلی چہرہ معلوم ہوسکیں
عالم دیندار اور اسلام پسند کبھی زمین پر قبضہ نہیں کرتے اور نہ ہی شر پسند ہوتے ہیں۔۔ علمائے کرام نے ہمیشہ امن کو پسند کیا ہے ۔ اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے۔
@fkkundi
@SamarHBilour
@ziaurrehman76
سید عدنان بادشاہ 🇵🇰 @syed_bachaقبضہ کی زمین پر مسجد/مرکز کا حکم اور مفتی محمود مرکز پشاور 👈کسی کی زمین یا عوامی حق پر قبضہ (غصب/تجاوزات) کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ حدیث: «مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ» (بخاری و مسلم) ‼️قبضہ کی جگہ پر مسجد بنانا جائز نہیں، کیونکہ وقف کے لیے مالک ہونا ضروری ہے۔ ‼️ایسی جگہ پر نماز مکروہ تحریمی ہے آج پشاور میں مفتی محمود مرکز (جمعیت علمائے اسلام ف کا صوبائی ہیڈکوارٹر) کا کچھ حصہ PDA کی طرف سے تجاوزات (52 فٹ رائٹ آف وے) قرار دے کر مسماری کا نوٹس آیا ہے۔ کارکنان نے مرکز گھیر لیا ہے اور کہہ رہے ہیں "ایک انچ بھی نہیں گرانے دیں گے" 👈سوال یہ ہے: جو علماء خود عوام کو قبضہ اور غصب کی وعیدیں سناتے رہتے ہیں، ان کے اپنے مرکز کا وہ حصہ جو انتظامیہ کے مطابق عوامی جگہ/رائٹ آف وے پر ہے، کیا اسی شرعی اصول سے مستثنیٰ ہے؟ جب مرکز کا کچھ حصہ تجاوزات ہیں تو شریعت کے مطابق خود ہٹا دیں تاکہ “اللہ طیب ہے اور صرف پاک قبول کرتا ہے” کا درس عملی طور پر بھی نظر آئے۔
181302384.3K










